قرآن و حدیث کی روشنی میں والدین کے حقوق
اسلام میں والدین کی خدمت اور ان کا مقام
اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں انسان کی دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی پوشیدہ ہے۔ قرآن و سنت میں جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کا حکم دیا ہے، وہیں والدین کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی بار بار تلقین کی ہے۔ والدین کی اطاعت اور خدمت کو عبادت کے بعد سب سے اہم عمل قرار دیا گیا ہے۔
---
قرآن میں والدین کا مقام
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کئی مقامات پر والدین کے حقوق بیان کیے ہیں۔ سورۃ بنی اسرائیل میں ارشاد ہے:
> "اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی تاکید کی ہے۔ اگر وہ تمہیں میرے ساتھ کسی کو شریک کرنے پر مجبور کریں تو ان کی اطاعت نہ کرنا، لیکن دنیا میں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہنا۔" (القرآن 17:23)
اس آیت مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ والدین کا مقام کتنا بلند ہے کہ اللہ کی توحید کے بعد والدین کی خدمت اور ان کے ساتھ نیک سلوک کو سب سے بڑا عمل قرار دیا گیا ہے۔
---
احادیث میں والدین کی خدمت
رسول اللہ ﷺ نے بھی والدین کی خدمت کو جنت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا:
"یارسول اللہ! کون سا عمل سب سے زیادہ محبوب ہے؟"
آپ ﷺ نے فرمایا:
"نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔"
پھر پوچھا: "اس کے بعد؟"
آپ ﷺ نے فرمایا: "والدین کے ساتھ حسن سلوک۔"
(صحیح بخاری و مسلم)
اسی طرح ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:
"والدین جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہیں، اگر چاہو تو اسے ضائع کر لو یا محفوظ رکھو۔"
(سنن ترمذی)
---
والدین کی خدمت میں برکت
والدین کی خدمت صرف دنیاوی کامیابی ہی نہیں بلکہ آخرت کی نجات کا بھی ذریعہ ہے۔ جو اولاد والدین کے فرمانبردار اور خدمت گزار ہوتے ہیں، اللہ ان کے رزق میں برکت عطا فرماتا ہے، ان کے معاملات آسان کرتا ہے اور انہیں لوگوں کی نگاہوں میں عزت دیتا ہے۔
ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک صحابیؓ اپنی والدہ کو اپنی پیٹھ پر بٹھا کر حج کے مناسک ادا کر رہے تھے۔ کسی نے پوچھا: کیا اس خدمت سے تم نے اپنی والدہ کا حق ادا کر دیا؟ انہوں نے جواب دیا: "شاید بھی نہیں، کیونکہ ماں نے تو اپنی اولاد کو تکلیف میں پالنے کے باوجود راحت کی دعا دی، لیکن اولاد والدین کی خدمت کرتے ہوئے بھی کبھی کبھی دل میں شکایت لے آتی ہے۔"
---
والدین کے ساتھ بدسلوکی کا انجام
اسلام میں والدین کی نافرمانی کو "کبیرہ گناہ" قرار دیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں ہے:
"کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟"
صحابہؓ نے کہا: کیوں نہیں یارسول اللہ!
آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی۔"
(صحیح بخاری و مسلم)
والدین کی بددعا انسان کی دنیا اور آخرت کو تباہ کر سکتی ہے۔ اس لیے نافرمانی سے بچنا اور والدین کے دل کو خوش رکھنا ایمان کا حصہ ہے۔
---
والدین کی خدمت کے عملی طریقے
ان کی ضروریات کو اپنی ضروریات پر مقدم رکھنا۔
ادب و احترام کے ساتھ بات کرنا۔
مالی طور پر ان کا سہارا بننا۔
ان کی بیماری میں ان کی تیمارداری کرنا۔
ان کے لیے دعا کرتے رہنا:
> "اے میرے رب! ان پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھ پر رحم کیا۔"
---
والدین کے بعد بھی خدمت جاری رہتی ہے
والدین کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد بھی ان کی خدمت کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔ ان کے لیے دعا کرنا، ان کے نام پر صدقہ و خیرات دینا، ان کے دوستوں اور رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرنا—all یہ اولاد کے لیے ثواب کا ذریعہ ہیں۔
---
نتیجہ
اسلام میں والدین کی خدمت عبادت کے بعد سب سے بڑا عمل ہے۔ یہ صرف ایک سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ ایمان کا حصہ ہے۔ جو لوگ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرتے ہیں، وہ دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ
ہم والدین کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں اور ان کی دعاؤں کو اپنی اصل دولت سمجھیں۔

Comments
Post a Comment