قرآن و حدیث کی روشنی میں والدین کے حقوق

Image
اسلام میں والدین کی خدمت اور ان کا مقام اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں انسان کی دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی پوشیدہ ہے۔ قرآن و سنت میں جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کا حکم دیا ہے، وہیں والدین کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی بار بار تلقین کی ہے۔ والدین کی اطاعت اور خدمت کو عبادت کے بعد سب سے اہم عمل قرار دیا گیا ہے۔ --- قرآن میں والدین کا مقام اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کئی مقامات پر والدین کے حقوق بیان کیے ہیں۔ سورۃ بنی اسرائیل میں ارشاد ہے: > "اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی تاکید کی ہے۔ اگر وہ تمہیں میرے ساتھ کسی کو شریک کرنے پر مجبور کریں تو ان کی اطاعت نہ کرنا، لیکن دنیا میں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہنا۔" (القرآن 17:23) اس آیت مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ والدین کا مقام کتنا بلند ہے کہ اللہ کی توحید کے بعد والدین کی خدمت اور ان کے ساتھ نیک سلوک کو سب سے بڑا عمل قرار دیا گیا ہے۔ --- احادیث میں والدین کی خدمت رسول اللہ ﷺ نے بھی والدین کی خدمت کو جنت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: "یارسول اللہ! کون س...

ایک دفعہ ایک ملک کا بادشاہ بیمار ہو گیا

  ایک دفعہ ایک ملک کا بادشاہ بیمار ہو گیا

ایک دفعہ ایک ملک کا بادشاہ بیمار ہو گیا، جب بادشاہ نے دیکھا کے اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں تو اس نے اپنے ملک کی رعایا میں اعلان کروا دیا کہ وہ اپنی بادشاہت اس کے نام کر دے گا جو اس کے مرنے کے بعد اس کی جگہ ایک رات قبر میں گزارے گا،

 

سب لوگ بہت خوفزدہ ہوئے اور کوئی بھی یہ کام کرنے کو تیار نہ تھا، اسی دوران ایک کمہار جس نے ساری زندگی کچھ جمع نہ کیا تھا ۔ اس کے پاس سوائے ایک گدھے کے کچھ نہ تھا اس نے سوچا کہ اگر وہ ایسا کرلے تو وہ بادشاہ بن سکتا ہے اور حساب کتاب میں کیا جواب دینا پڑے گا اس کے پاس تھا ہی کیا ایک گدھا اور بس! سو اس نے اعلان کر دیاکہ وہ ایک رات بادشاہ کی جگہ قبر میں گزارے گا۔

بادشاہ کے مرنے کے بعد لوگوں نے بادشاہ کی قبر تیار کی اور وعدے کے مطابق کمہار خوشی خوشی اس میں جا کر لیٹ گیا، اور لوگوں نے قبر کو بند کر دیا، کچھ وقت گزرنے کے بعد فرشتے آئے اور اسکو کہا کہ اٹھو اور اپنا حساب دو۔ اس نے کہا بھائی حساب کس چیز کا میرے پاس تو ساری زندگی تھا ہی کچھ نہیں سوائے ایک گدھے کے!!!

فرشتے اس کا جواب سن کر جانے لگے لیکن پھر ایک دم رکے اور بولے ذرا اس کا نامہ اعمال کھول کر دیکھیں اس میں کیا ہے، بس پھر کیا تھا،

سب سے پہلے انہوں نے پوچھا کہ ہاں بھئی فلاں فلاں دن تم نے گدھے کو ایک وقت بھوکا رکھا تھا، اس نے جواب دیا ہاں، فوری طور پر حکم ہوا کہ اسکو سو د’رے مارے جائیں،اسکی خوب دھنائی شروع ہو گئی۔

اسکے بعد پھر فرشتوں نے سوال کیا اچھا یہ بتاو فلاں فلاں دن تم نے زیادہ وزن لاد کر اسکو مارا تھا، اس نے کہا کہ ہاں پھر حکم ہوا کہ اسکو دو سو د’رے مارے جائیں، پھر مار پڑنا شروع ہوگئی۔ غرض صبح تک اسکو مار پڑتی رہی۔

صبح سب لوگ اکھٹے ہوئے اور قبر کشائی کی تا کہ اپنے نئے بادشاہ کا استقبال کر سکیں۔

جیسے ہی انہوں نے قبر کھولی تو اس کمہار نے باہر نکل کر دوڑ لگا دی، لوگوں نے پوچھا بادشاہ سلامت کدھر جا رہے ہیں، تو اس نے جواب دیا، او بھائیوں پوری رات میں ایک گدھے کا حساب نہیں دے سکا تو پوری رعایا اور مملکت کا حساب کون دیتا پھرے۔

کبھی سوچا ہے کہ ہم نے بھی حساب دینا ہے ۔ اور پتہ نہیں کہ کس کس چیز کا حساب دینا پڑے گا جو شاید ہمیں یاد بھی نہیں ہے.

Comments

Popular posts from this blog

NDMA National Monsoon Contingency weather ☁️ 🌡️ Plan 2024

قرآن و حدیث کی روشنی میں والدین کے حقوق

این ڈی ایم اے نیشنل مون سون موسم پلان 2024