قرآن و حدیث کی روشنی میں والدین کے حقوق
All kids are fond of best stories. The available stories are baby stories,kahaniyan in Urdu.This site also provides Islamic moral stories in urdu.promote reading in kids this.Bloging tips and tricks YouTube tips and tricks latest Indian movie correct meaning of Article in Urdu is مضمون, and in roman we write it Mazmoon.Article is an noun according to parts of speech.Islamic Pictures Blog · Tagged with Urdu Islamic Stories · Khana Kaaba Ki Tareekh · Hazrat Musa (A.S) and Urdu story islamic.com
اسلام ہمیں ہر لمحہ دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنے، مدد کرنے اور نیکی پھیلانے کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن و حدیث میں بار بار صدقہ و خیرات کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
"صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ اللہ اس میں برکت عطا فرماتا ہے۔"
یہ کہانی ایک ایسے مسلمان تاجر کی ہے جس نے مشکل وقت میں بھی اللہ پر بھروسہ کیا اور صدقہ دے کر اپنی زندگی بدل ڈالی۔
---
کہانی کا آغاز
پرانے زمانے میں ایک چھوٹے سے شہر میں ایک تاجر رہتا تھا۔ اس کا نام عبدالرحمٰن تھا۔ وہ محنتی اور ایماندار آدمی تھا، مگر حالات ہمیشہ اس کے ساتھ نہیں رہے۔ کئی سال کے کامیاب کاروبار کے بعد اچانک اسے نقصان اٹھانا پڑا۔
اس کے گودام میں لگی آگ نے اس کا زیادہ تر مال جلا ڈالا۔ قرض دار لوگ روزانہ اس کے دروازے پر آ کر تقاضہ کرتے۔ گھر کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گیا۔ یہاں تک کہ کھانے کے لئے بھی پیسے کم پڑنے لگے۔
عبدالرحمٰن اکثر سوچتا:
"یا اللہ! میں نے ہمیشہ ایمانداری سے کام کیا ہے، پھر بھی یہ آزمائش کیوں آئی ہے؟"
---
غریب کی صدا
ایک دن وہ اپنے ٹوٹے دل کے ساتھ بازار سے گھر واپس آ رہا تھا۔ راستے میں ایک فقیر ملا جو بھوکا تھا۔ فقیر نے کہا:
"بھائی، اللہ کے نام پر مجھے کچھ دے دو۔ تین دن سے بھوکا ہوں۔"
عبدالرحمٰن کی جیب میں صرف چند سکے بچے تھے جن سے وہ اپنے بچوں کے لئے روٹی لانے والا تھا۔ اس کے دل میں کشمکش ہوئی کہ یہ پیسے اپنے گھر پر خرچ کرے یا اس فقیر کو دے دے۔
اسی لمحے اسے نبی کریم ﷺ کی حدیث یاد آئی:
"جو شخص بھوکے کو کھلائے گا، اللہ قیامت کے دن اسے جنت میں کھلائے گا۔"
اس نے آنکھیں بند کیں، دل میں اللہ پر بھروسہ کیا اور وہ پیسے فقیر کو دے دیے۔
فقیر نے دعائیں دیں:
"اللہ تمہیں اس صدقے کے بدلے میں کئی گنا زیادہ عطا فرمائے۔"
---
اللہ کی مدد
گھر پہنچ کر عبدالرحمٰن سوچ میں پڑ گیا کہ اب بچوں کو کیا کھلائے گا۔ لیکن رات کو اچانک ایک پرانا گاہک اس کے دروازے پر آیا۔ اس گاہک نے کہا:
"میں نے تمہارے بارے میں سنا کہ تمہیں نقصان ہوا ہے۔ لیکن مجھے ہمیشہ تمہاری ایمانداری پر بھروسہ رہا ہے۔ میں کل ایک بڑا سودا کرنے جا رہا ہوں اور چاہتا ہوں کہ تم ہی میرا شریک بنو۔"
گاہک نے اسے ایک بڑا سرمایہ دیا تاکہ وہ اس کے ساتھ تجارت کرے۔ عبدالرحمٰن حیران رہ گیا۔
---
کاروبار میں برکت
اگلے ہی دن عبدالرحمٰن نے اس سرمائے سے تجارت شروع کی۔ اللہ نے اس کے کاروبار میں ایسی برکت ڈالی کہ چند ہی مہینوں میں اس نے اپنا سارا پرانا قرض اتار دیا، نیا مال خریدا اور گودام دوبارہ آباد ہو گیا۔
لوگ حیران تھے کہ اتنی جلدی یہ کیسے ممکن ہوا؟ عبدالرحمٰن کے دل میں جواب صاف تھا:
"یہ سب میرے رب کا کرم ہے اور اس فقیر کی دعا کا نتیجہ ہے جسے میں نے صدقہ دیا تھا۔"
---
سبق
اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ:
1. صدقہ کبھی ضائع نہیں ہوتا – جو اللہ کے لئے دیا جائے وہ کئی گنا بڑھ کر واپس ملتا ہے۔
2. اللہ پر بھروسہ سب سے بڑی طاقت ہے – جب انسان نیت صاف رکھے تو اللہ مشکل وقت کو آسان کر دیتا ہے۔
3. مدد چھوٹی ہو یا بڑی، نیت خالص ہونی چاہئے – کبھی کبھی ایک روٹی یا چند سکے بھی انسان کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔
4. آزمائش کے بعد آسانی ہے – قرآن میں ہے: “بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے” (الانشراح: 6)۔
---
نتیجہ
عبدالرحمٰن کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ صدقہ اور خیرات محض غریبوں کی مدد کا نام نہیں، بلکہ یہ ہماری اپنی کامیابی اور رزق میں برکت کا ذریعہ بھی ہے۔ جو لوگ اللہ کے لئے دیتے ہیں، اللہ انہیں کبھی محروم نہیں کرتا۔
Comments
Post a Comment